Ubqari®

عالمی مرکز امن و روحانیت
اعلان!!! نئی پیکنگ نیا نام فارمولہ،تاثیر اور شفاءیابی وہی پرانی۔ -- اگرآپ کو ماہنامہ عبقری اور شیخ الوظائف کے بتائے گئے کسی نقش یا تعویذ سے فائدہ ہوا ہو تو ہمیں اس ای میل contact@ubqari.org پرتفصیل سے ضرور لکھیں ۔آپ کے قلم اٹھانے سے لاکھو ں کروڑوں لوگوں کو نفع ملے گا اور آپ کیلئے بہت بڑا صدقہ جاریہ ہوگا. - مزید معلومات کے لیے یہاں کلک کریں -- تسبیح خانہ لاہور میں ہر ماہ بعد نماز فجر اسم اعظم کا دم اور آٹھ روحانی پیکیج، حلقہ کشف المحجوب، خدمت والو ں کا مذاکرہ، مراقبہ اور شفائیہ دُعا ہوتی ہے۔ روح اور روحانیت میں کمال پانے والے ضرور شامل ہوں۔۔۔۔ -- تسبیح خانہ لاہور میں تبرکات کی زیارت ہر جمعرات ہوگی۔ مغرب سے پہلے مرد اور درس و دعا کے بعد خواتین۔۔۔۔ -- حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی درخواست:حضرت حکیم صاحب ان کی نسلوں عبقری اور تمام نظام کی مدد حفاظت کا تصور کر کےحم لاینصرون ہزاروں پڑھیں ،غفلت نہ کریں اور پیغام کو آگے پھیلائیں۔۔۔۔ -- پرچم عبقری صرف تسبیح خانہ تک محدودہے‘ ہر فرد کیلئے نہیں۔ماننے میں خیر اور نہ ماننے میں سخت نقصان اور حد سے زیادہ مشکلات،جس نے تجربہ کرنا ہو وہ بات نہ مانے۔۔۔۔ --

رشتہ کے نام پر بار بار ٹھکرائی جانیوالی لڑکی کا لرزتا خط

ماہنامہ عبقری - ستمبر 2018ء

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں آج جس موضوع پر جس درد‘ جس کرب‘ جس کربلا جس مظلومیت کو آپ کے سامنے اجاگر کرنے جارہی ہوں‘ وہ آج ہر گھر‘ ہر معاشرے‘ ہر ملک اور سوسائٹی کا ہے۔ وہ مسئلہ ہے بیٹی ہونا‘ جی ہاں! ایک بیٹی ہونا یہ کس قدر تکلیف دہ چیز ہے کہ میں ایک بیٹی ہوں‘ ایک عورت‘ ایک لڑکی ہوں‘ یہ آپ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ وہ عزت قدرتی دی ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے کہ ’’نہیں مانند بیٹی مثل بیٹے کے‘‘ مگر اس بیچاری کو حقوق بھی تو اسی رب نے عطا کیے ہیں جس کو آج ہر گھر‘ ہر معاشرہ پس پشت ڈال کر چل رہا ہے‘ میں ان تمام روحانی پہلوؤں پر سے آج پردہ اٹھاؤں گی۔ جب کسی کی بیٹی کو ناپسند کرکے موڑ دیاجاتا ہے بغیر کچھ سوچے سمجھے‘ بغیر کسی وجہ کے Reject کردیا جاتا ہے میں بتانا چاہتی ہوں کہ بس ایک ادنیٰ سی مسلمان اپنے کمزور ایمان کی روشنی میں کیا کچھ دیکھ چکی ہوں جب یہ زلزلہ کسی بیٹی کے گھر آتا ہے‘ کونسا کربلا اس خاندان والوں پر آتا ہے جب وہ دوسروں کی آہ بھگت ادھار کے پیسے اٹھا کر دوسروں کو عزت دینے کیلئے کرتے ہیں اور اپنی جگر کے ٹکڑے کو لوگوں کی ڈیمانڈ کے مطابق سجاتے سنوارتے ہیں جیسے کسی منڈی میں جانور کا بول لگنا ہو‘ آپ سوچ نہیں سکتے میرے پاس الفاظ نہیں وہ زبان وہ لفظ کہاں سے لاؤں‘ جو اس کربلا کے خون کو دھوسکے‘ اس ہلتی ہوئی زمین کو روک سکے اس جلتی ہوئی دوزخ کو بجھا سکے۔محترم حکیم صاحب! میری پہلی گزارش یہ ہے کہ آپ میرے اس خط کو عبقری میں شائع کریں‘ یہ میری امانت عبقری قارئین تک پہنچائیں‘ لوگوں کو بتائیں کہ ایک رحمت جو اللہ رب العزت نے آپ کے گھر بیٹی کی صورت میں بھیجی ہے اس کی آپ نے کی دھجیاں اڑائی ہیں‘ اس کی روح کے اتنے ٹکڑے ہوچکے ہیں کہ شمار نہیں‘ بتائیں لوگوں کو جو اپنی بیماریوں‘ پریشانیوں‘ جادو اور بندشوں کو روتے ہیں کیا وہ اپنی جو گھر میں رحمت ہے اس کے ساتھ اور جو دوسروں کےگھروں کی رحمت ہے کیا سلوک کررہے ہیں؟ پوچھیں ان لوگوں سے جو بے ہودگی میں ساری حدیں توڑ چکے ہیں‘ بنت حوا جو حیا کی چادر میں سمٹی چائے کی ٹرے لیے ان کے سامنے آتی ہے تو اپنی گندی زہر آلود نظروں سے اس کی عزت کی چادر تار تار کرڈالتے ہیں۔ پوچھیں ذرا ان لوگوں سے جو رحمت کے ساتھ زحمت والا سلوک دن رات کرتے نہیں تھکتے‘ جو نہ میراث میں کوئی حصہ یاد رکھنا ضروری سمجھتے ہیں اور دوسروں کی بیٹیوں کے جہیز پر لالچی نظریں ٹھوک کر بیٹھے ہیں۔قارئین! اب آپ بتائیں کیا یہ زلزلہ نہیں‘کیا یہ بدصورتی ہے کیا یہ کم بلا اور عذاب ہے جو لوگوں کو نظر ہی نہیں آرہا؟یہ کیسا عالم ہے‘ یہ کیسا رواج ہے کہ بنت آدم کو نمائش کی چیز بنا دیا گیا‘ جس کو پسند آئے خرید لے (رشتے کیلئے ہاں کردے) جس کو پسند نہ آئی منہ بسور کر نہ کردے۔ ارے سوچو اس لڑکی پر وہ رات کیسے گزرتی ہوگی؟ وہ کیسے بستر میں منہ دے کر ہچکیاں لیتی ہوگی؟ وہ کیسے سب کے سامنے تو ہنستی کھیلتی بولتی اور گھر کے کام کرتی ہے مگر چھپ چھپ کر آہیں بھرتی ہے؟ ذرا تو سوچو جب اسے کہا جاتا ہے تمہیں پھر کوئی دیکھنے آرہا ہے تو اس کا دل کیسے ڈر جاتا ہے‘ اس کے ذہن میں کتنے وساوس جگہ بنالیتےہیں کہ نہ جانے آج پھر اس کی بولی لگےگی‘ لوگ اسے گندی ہوس بھری نظروں سے دیکھیں گے اور پھر جاتے ہوئے اسے Rejectکرجائیں گے۔
یہ کیسا عالم ہے؟ کیا بنی آدم آج سے پہلے اتنا آزاد‘ بے حیا اور بے لگام ہوا تھا جتنا آج ہے؟ کیا کبھی پہلے کبھی کسی نے کسی کی بیٹی کو اتنی بار نکاح جیسے پاکیزہ رشتہ میں لانے کے لیے اتنی بار نیلام کیا تھا؟ قارئین! اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کچھ تو بتائیں۔ ہم اتنی انوکھی بیماریوں کا شکار کیوں نہ ہوں ہم تو اس سے بھی زیادہ کے مستحق ہیں۔ ہم تو اس سے بھی بڑی بلاؤں میں قید کے قابل ہیں‘ جتنا ہمیں اس پورے ماحول کی گندگی اور پھٹکار اور آہوں اور سسکیوں اور بددعاؤں کا نذرانہ مل چکا ہے ہمیں تو ایک سانس بھی نہیں ملنی چاہیے۔ پوچھیں ان سے یہ لوگ زندہ کیوں ہیں؟ ۔قارئین!جتنی آہیں‘ میں سن چکی ہوں‘ جتنا میں ناروا سلوک دیکھ چکی ہوں‘ جتنا آدم کی بیٹی کو
میں غیرمحرموں کے سامنے نیلام ہوتا دیکھ چکی ہوں واللہ! یہ آفات‘ زلزلے‘ مہنگائی‘ بیماریاں‘ غیرسکونی‘ ٹینشن‘ ڈیپریشن‘ لڑائی جھگڑے یہ سب ایک جھونکا ہیں ۔ واللہ! وہ ذات ہم سے ناراض ہے ہم نے اس رحمت (بیٹی) کے ساتھ کیا کیا حیوانیت جیسا سلوک کیا اور کیے جارہے ہیں جنگ جاری ہے اورعصمت‘ عزت‘ رحمت‘ برکت‘ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اوپر اٹھ چکے ہیں۔ بس اب تو فضاؤں میں ذرات باقی ہیں۔ ہاں! کچھ اہل دل‘ اہل ضمیر‘ اہل دین‘ اہل ایمان ہیں جن کے وجود جن کی دعائیں‘ جن کے اعمال‘ جن کے استغفار جن کی توبہ‘ جن کی آہیں‘ بڑے بڑے عذاب ٹلوا رہی ہیں۔ خدارا خود کوجاہلیت کے دور سے بھی نیچے مت گراؤ جب وہ زندہ درگور کردیا کرتے تھے کیا تم نہیں جانتے جب تم کسی کے گھر کی رحمت کو ٹھکراتے ہو جب اس کی طرح طرح سے پیمائش کرتے ہو‘ کیا اللہ کو غیرت نہ آتی ہوگی سوچیں قارئین!اس کی رحمت کے ساتھ ایسا ایسا سلوک‘ پھر وہ زمین میں گڑھ ہی تو جاتی ہے‘ اس کو جینے کے قابل کب چھوڑتے ہو! اس سب کے ذمہ دار کوئی ایک دو نہیں ہم سب ہیں‘ جو جو اس عمل میں کارفرما ہیں‘ رشتہ کرنے‘ کروانے والے سے لے کر سب! میرا عبقری کے قارئین کو کھلا پیغام ہے اگر ہم ایسی حرکات اور ایسی نمائشوں‘ معیاروں اور پیمائشوں سے باز نہ آئے تو پھر اس سے بھی بڑی تباہیوں کیلئے تیار رہو کیونکہ آہیں دلوں سے چھوٹ چکی ہیں‘ جذبات کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ میری باتیں شاید بعض قارئین کی سمجھ میں نہ آئیں مگر ان تمام باتوں کی ایک زندہ جاوید مثال آپ کے سامنے اس تحریر میں موجود ہوں جو کچھ احوال بیان کررہی ہوں میں اس کی ایک تصویر ہوں اور جو احوال دیکھ چکی ہوں اس کی چشم دید گواہ ہوں‘ میں خود دیکھ چکی ہوں اپنی ان گنہگار آنکھوں سے اسی لیے میرے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک خیال اور اس کو زبان دی جو میں آپ کو اپ بیتی لکھ رہی ہوں اور مجھے یہ خیال آیا کہ لوگوں کو رب کریم کی رحمت کی بے حرمتی کرنے والوں کے بارے آگاہ کروں۔خدارا! ابھی بھی وقت ہے آدم کی بیٹی کے مت ایسا ہولناک سلوک کریں‘ میری بھائیوں سے گزارش ہے کہ انٹرنیٹ پر دوستیوں کے نام پر‘ جھوٹے رشتوں ناطوں کے نام پر‘ مت کسی کی رحمت کے ساتھ مذاق کریں‘ مت اس کی عزت نیلام کریں‘ مت جھوٹے دعوے کریں‘ مت بے حیائیوں کو دعوت دیں‘ خداراً کسی کی رحمت کو مت نیلام کریں‘

میری تمام اسلامی بہنوں‘ بیٹیوں سے گزارش ہے اپنی عزت کو سنبھال کر رکھیں اور موجودہ دور کے فتنوں خاص طور پر انٹرنیٹ کے نام پر ان کا مکمل بائیکاٹ کریں‘  فیس بک پر اپنی تصاویر ہرگز نہ لگائیں‘ آپ خود اپنی عزت کریں گی تو کوئی دوسرا بھی آپ کی عزت کرے گا۔ صبر سے اچھے وقت کا انتظار کریں نماز اور صبر سے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کریں‘ پردہ کی مکمل پابندی کریں‘ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں‘شریعت کی حدود کو ہرگز پامال نہ کریں۔ اللہ حیا والا ہے اور حیا کو پسند کرتا ہے کسی کیلئے نہیں صرف اور صرف اللہ کو ذہن میں رکھیں کہ یہ بُرا کام‘ اس کریم کوپسند نہیں‘اپنے ایمان کی حفاظت کریں‘ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھیں۔ میری عبقری قارئین سے پھرگزارش ہے کہ بارش کا پہلا قطرہ بن کر اس گلشن کی بہاروں کو واپس لائیں جو ہم سے روٹھ گئی ہیں‘ اپنی بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلوائیں‘ اسلام سکھائیں‘ یہ پہلا اور اولین کام ہے۔ آئیے! اس دقیانوسی رسم کا مکمل بائیکاٹ کریں۔آج یہ خط لکھنے سے میری آنکھیں اشکبار ہیں‘ اس قدر درد‘ تکلیف ہے کہ بیان مشکل ہے امید ہے اب میری اس کیفیت اور آپ بیتی کو پڑھ کر قارئین عبقری اس رسم کا بائیکاٹ کریں گے۔

Ubqari Magazine Rated 3.7 / 5 based on 893 reviews.